Sunday, 11 September 2022

سنا دی کس نے روداد غم دل کوہساروں کو

 سنا دی کس نے رودادِ غم دل کوہساروں کو

میں اکثر سوچتا ہوں دیکھ کر ان آبشاروں کو

گئے موسم کا اک پیلا سا پتا شاخ پر رہ کر

نہ جانے کیا بتانا چاہتا ہے ان بہاروں کو

چلے آؤ نہ روکے گا غبارِ راہ اب تم کو

کہ پُرنم کر دیا اشکوں سے میں نے رہگزاروں کو

سمجھ پائے ہیں ان کو اور نہ سمجھیں گے خِرد والے

دلِ عاشق سمجھ لیتا ہے جن مبہم اشاروں کو

خبر نامے کی سُرخی میں انہیں کا ذکر تھا ناظم

بتائے تھے جو میں نے راز اپنے رازداروں کو


ناظم بریلوی

No comments:

Post a Comment