اداسی
میری پیاری اداسی ہمیشہ میرے ساتھ رہنا
کبھی بھی مجھے اکیلا نہ چھوڑنا
کیونکہ تیرے ساتھ
مجھے جینے کی عادت پڑ گئی ہے
یہ ایک بے رحم شہر ہے
جس کے اندر تجھے کوئی بھی اچھا نہیں سمجھتا
میں تو بچپن ہی سے تجھے جانتا ہوں
ہم ایک دن کے لیے بھی کبھی جدا نہیں ہوئے
میری پیاری اداسی میرے ساتھ رہنا
اگر تم چاہو تو
آج کسی خوشگوار ماحول میں تجھے لے جاتا ہوں
جہاں کچھ لمحات گزاریں گے
پھر رات گئے واپس آئیں گے
اور ہمیشہ کی طرح
ایک دوسرے کو گلے لگا کر سو جائیں گے
اور سونے سے پہلے
میں تجھے ایک خوبصورت نظم سناؤں گا
جس کا مفہوم اداسی ہو گا
امید علی
No comments:
Post a Comment