عارفانہ کلام نعتیہ کلام
طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی
ملتی ہے اس جہاں کو مدینے کی روشنی
کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے
پھیلا رہے تھے آپﷺ قرینے کی روشنی
رمضان ہو کہ ماہ ربیع الاول ہو بس
چاروں طرف ہے انؐ کے مہینے کی روشنی
اک بشر بے مثال کا وہ حسن با کمال
مہکا رہا تھا انؐ کے پسینے کی روشنی
اے موجب ارض و سما اب کیجیے عطا
یا صاحب لولاکﷺ مدینے کی روشنی
شق الصدر سے ہو گئے حیران جبرائیلؑ
پھیلی تھی کل جہان میں سینے کی روشنی
جس وصل بے مثال میں طاری تھی بیخودی
بخشش میں تھی نماز خزینے کی روشنی
یزداں بھی انﷺ پہ بھیجتا ہے رات دن درود
شمس و قمر سے برتر نگینے کی روشنی
سرکارﷺ آپؐ کی ہی گدا ہوں کرم ہو بس
درکار ہے مجھے بھی خزینے کی روشنی
شاہیں نبیؐ کے دم سے ہی مجھ کو ہوئی عطا
مرتے ہوئے وجود میں جینے کی روشنی
نجمہ شاہین کھوسہ
No comments:
Post a Comment