Saturday, 10 September 2022

طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی

ملتی ہے اس جہاں کو مدینے کی روشنی

کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے

پھیلا رہے تھے آپﷺ قرینے کی روشنی

رمضان ہو کہ ماہ ربیع الاول ہو بس

چاروں طرف ہے انؐ کے مہینے کی روشنی

اک بشر بے مثال کا وہ حسن با کمال

مہکا رہا تھا انؐ کے پسینے کی روشنی

اے موجب ارض و سما اب کیجیے عطا

یا صاحب لولاکﷺ مدینے کی روشنی

شق الصدر سے ہو گئے حیران جبرائیلؑ

پھیلی تھی کل جہان میں سینے کی روشنی

جس وصل بے مثال میں طاری تھی بیخودی

بخشش میں تھی نماز خزینے کی روشنی

یزداں بھی انﷺ پہ بھیجتا ہے رات دن درود

شمس و قمر سے برتر نگینے کی روشنی

سرکارﷺ آپؐ کی ہی گدا ہوں کرم ہو بس

درکار ہے مجھے بھی خزینے کی روشنی

شاہیں نبیؐ کے دم سے ہی مجھ کو ہوئی عطا

مرتے ہوئے وجود میں جینے کی روشنی


نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment