Saturday, 10 September 2022

ملا ہے عشق محمد سے یہ وقار مجھے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مِلا ہے عشقِ محمدﷺ سے یہ وقار مجھے

کہ اب گدا نظر آتے ہیں شہریار مجھے

یہاں خیال ہے میرا نہ دل نہ دل کا قرار

بُلا ہی لیجیے آقائے نامدارﷺ مجھے

جہاں کہیں مِری گرداب میں گِھری کشتی

حضورﷺ ہی کے کرم نے کیا ہے پار مجھے

شعار جسﷺ کا کریمی ہے دونوں عالم میں

خوشا نصیب مِلا ایسا غمگسارﷺ مجھے

گماں گزرتا ہے جیسے ہوں خود مدینے میں

جو یاد آتا ہے سرکارﷺ کا دیار مجھے

میں اِک نظر پہ تصدق کروں دو علم کو

قسم خدا کی خدا دے جو اختیار مجھے

چھپا لیا تِریﷺ رحمت نے اپنے دامن میں

جو دیکھا اپنی خطاؤں پہ شرمسار مجھے

جہاں پناہﷺ جہاں ہے پناہ خالد کو

دِکھائی دیتا ہے بس آپؐ کا دیار مجھے


خالد محمود خالد

خالد محمود نقشبندی 

No comments:

Post a Comment