عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بھنور سے دور قریب نشاں کرے گا کون
میرے سفینۂ دل کو رواں کرے گا کون
محافظت کو اگر تُو نہ آئے گا میری
عدو کے وار کو پھر رائیگاں کرے گا کون
نہ دے گا چاند ستاروں کو تُو اجازت تو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بھنور سے دور قریب نشاں کرے گا کون
میرے سفینۂ دل کو رواں کرے گا کون
محافظت کو اگر تُو نہ آئے گا میری
عدو کے وار کو پھر رائیگاں کرے گا کون
نہ دے گا چاند ستاروں کو تُو اجازت تو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سوال
خزاں گزیدہ ہوں صبر و قرار دے ربی
مِرے چمن کو متاعِ بہار دے ربی
زمیں کی کوکھ سلگتی ہے ایک مدت سے
کرم کی بارشیں اب تو اتار دے ربی
مِرے لہو میں اناؤں کی آگ روشن رکھ
میں زندہ ہوں یہ مجھے اعتبار دے ربی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سوا خدا کے یہاں کون سننے والا ہے
خموشیوں کی زباں کون سننے والا ہے
کسے سناتے ہو ان برف کے جزیروں میں
یہ آہِ سرد میاں! کون سننے والا ہے؟
خدا کو چھوڑ کے اس بے حسوں کی بستی میں
ہمارے غم کا بیاں کون سننے والا ہے؟
نذرِ میرا جی (میرا جی کی زمین میں)
سارا موسم بہار ہے اپنا
پھر بھی دل بے قرار ہے اپنا
اپنے خوں میں ہے اپنی میخواری
اپنے دل میں خمار ہے اپنا
جلتے رہتے ہیں اپنی وادی میں
جگنوؤں میں شمار ہے اپنا
نذرِ میرا جی (میرا جی کی زمین میں)
جب بھی جذبات آہ کرتے ہیں
دل کا عالم تباہ کرتے ہیں
منزلوں کے ہیں جو تمنائی
راستوں سے نباہ کرتے ہیں
روٹھ بیٹھے ہیں ہم تو بس خود سے
لوگ کیا کیا گناہ کرتے ہیں