Showing posts with label نذیر فتحپوری. Show all posts
Showing posts with label نذیر فتحپوری. Show all posts

Monday, 10 March 2025

بھنور سے دور قریب نشاں کرے گا کون

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بھنور سے دور قریب نشاں کرے گا کون

میرے سفینۂ دل کو رواں کرے گا کون

محافظت کو اگر تُو نہ آئے گا میری

عدو کے وار کو پھر رائیگاں کرے گا کون

نہ دے گا چاند ستاروں کو تُو اجازت تو

Sunday, 2 March 2025

خزاں گزیدہ ہوں صبر و قرار دے ربی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

سوال


خزاں گزیدہ ہوں صبر و قرار دے ربی

مِرے چمن کو متاعِ بہار دے ربی

زمیں کی کوکھ سلگتی ہے ایک مدت سے

کرم کی بارشیں اب تو اتار دے ربی

مِرے لہو میں اناؤں کی آگ روشن رکھ

میں زندہ ہوں یہ مجھے اعتبار دے ربی

Friday, 28 February 2025

سوا خدا کے یہاں کون سننے والا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سوا خدا کے یہاں کون سننے والا ہے

خموشیوں کی زباں کون سننے والا ہے

کسے سناتے ہو ان برف کے جزیروں میں

یہ آہِ سرد میاں! کون سننے والا ہے؟

خدا کو چھوڑ کے اس بے حسوں کی بستی میں

ہمارے غم کا بیاں کون سننے والا ہے؟

Tuesday, 26 October 2021

وہ چھپکے چھپکے تکتی ہےسارا موسم بہار ہے اپنا

نذرِ میرا جی (میرا جی کی زمین میں)


سارا موسم بہار ہے اپنا

پھر بھی دل بے قرار ہے اپنا

اپنے خوں میں ہے اپنی میخواری

اپنے دل میں خمار ہے اپنا

جلتے رہتے ہیں اپنی وادی میں

جگنوؤں میں شمار ہے اپنا

Tuesday, 17 August 2021

جب بھی جذبات آہ کرتے ہیں

نذرِ میرا جی (میرا جی کی زمین میں)


جب بھی جذبات آہ کرتے ہیں

دل کا عالم تباہ کرتے ہیں

منزلوں کے ہیں جو تمنائی

راستوں سے نباہ کرتے ہیں

روٹھ بیٹھے ہیں ہم تو بس خود سے

لوگ کیا کیا گناہ کرتے ہیں