اپنی نظریں کٹار کرتی ہوں
عاشقوں کا شکار کرتی ہوں
اس محبت میں بس خسارہ ہے
پھر بھی یہ کاروبار کرتی ہوں
اک نہ اک دن ضرور آئے گی
موت کا انتظار کرتی ہوں
اپنی نظریں کٹار کرتی ہوں
عاشقوں کا شکار کرتی ہوں
اس محبت میں بس خسارہ ہے
پھر بھی یہ کاروبار کرتی ہوں
اک نہ اک دن ضرور آئے گی
موت کا انتظار کرتی ہوں
پردہ چہرے سے ہٹا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
آئینہ تم کو دکھا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
ظلم سہتی ہوں تمہارا تو نہ سمجھو بزدل
خاک میں تم کو ملا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
یہ جو خود دار بنے پھرتے ہیں ان کو اپنی
انگلیوں پر میں نچا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
سرد موسم میں اک ردا ہے تُو
میں ہوں بادل مِری گھٹا ہے تو
دیکھتا ہے مجھے ہر اک صورت
میرے کمرے کا آئینہ ہے تو
میرے اندر تپش مئی کی ہے
اور دسمبر کی سی ہوا ہے تو
کر لیا سب سے خود بڑا خود کو
آپ نے کیا سمجھ لیا خود کو
تہمتیں بعد میں دھریں مجھ پر
کیجیۓ پہلے آئینہ خود کو
اور کوئی کہے تو میں مانوں
خود ہی کہتے ہو پارسا خود کو
جھوٹ مت بول مِرے واسطے چل رہنے دے
تُو بنائے گا نیا تاج محل؟؟ رہنے دے
دیکھ، تھک جائے گا لیکن نہ ملے گا کوئی
چھوڑ، مت ڈھونڈ کوئی میرا بدل، رہنے دے
تیری باتوں سے میں مغرور نہ ہو جاؤں کہیں
میری تعریف نہ کر اتنی بھی، چل رہنے دے
تم سمجھتے نہیں جذبات، تمہیں کیا معلوم
ہجر کے میرے یہ دن رات تمہیں کیا معلوم
میرے سینے میں یہ نشتر کی طرح چبھتے ہیں
اس زمانے کے سوالات، تمہیں کیا معلوم
تم تو سورج ہو ہوئی شام تو پھر ڈوب گئے
چاندنی رات، ملاقات، تمہیں کیا معلوم
دوستی اور محبت کے ہر جال سے
میں ہوں واقف تمہاری سبھی چال سے
اب کبوتر بنا کے رکھوں گی اسے
سیکھ آئی ہوں جادو میں بنگال سے
کیا کہا بھول بیٹھے ہو اک دم مجھے
پوچھ لو تم ذرا اپنے رومال سے