Thursday, 10 March 2022

پردہ چہرے سے ہٹا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

 پردہ چہرے سے ہٹا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

آئینہ تم کو دکھا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

ظلم سہتی ہوں تمہارا تو نہ سمجھو بزدل

خاک میں تم کو ملا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

یہ جو خود دار بنے پھرتے ہیں ان کو اپنی

انگلیوں پر میں نچا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

وہ جو دن رات کیا کرتا ہے تعریف مِری

اس کی باتوں میں تو آ سکتی ہوں لیکن چھوڑو

روز بکتے ہیں یہاں صاحبِ کردار ندا

میں بھی دام اس کا لگا سکتی ہوں لیکن چھوڑو


ندا اعظمی

No comments:

Post a Comment