پردہ چہرے سے ہٹا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
آئینہ تم کو دکھا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
ظلم سہتی ہوں تمہارا تو نہ سمجھو بزدل
خاک میں تم کو ملا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
یہ جو خود دار بنے پھرتے ہیں ان کو اپنی
انگلیوں پر میں نچا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
وہ جو دن رات کیا کرتا ہے تعریف مِری
اس کی باتوں میں تو آ سکتی ہوں لیکن چھوڑو
روز بکتے ہیں یہاں صاحبِ کردار ندا
میں بھی دام اس کا لگا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
ندا اعظمی
No comments:
Post a Comment