اب غمِ یار نہ چھلکا کرنا
ہے یہ رسوائی نہ رویا کرنا
آ گیا ترکِ تعلق کا مقام
جو ہے ہر طور گوارہ کرنا
ہو چکے غیر وہ اب مان بھی جا
غیر کی کیسی تمنا کرنا
کون بیٹھا ہے منانے تجھ کو
اب تو تا دیر نہ روٹھا کرنا
آ نہ جائے وہ تِرے خوابوں میں
بے خبر ہو نہ سویا کرنا
ریگِ کربل پہ یہی لکھا ہے
لفظ۔ خودداری نہ رسوا کرنا
یاد آتی رہی ان کی عارف
رہا بے سود بھلایا کرنا
عارف اویسی
No comments:
Post a Comment