Thursday, 10 March 2022

کچھ کھڑے ہیں تماش بینوں میں

 کچھ کھڑے ہیں تماش بینوں میں

کچھ ہیں آباد آستینوں میں

تیرے قدموں سے جو ابھرتی ہے

منتظر ہے وہ چاپ زینوں میں

مرحلہ ہجر کا جب آئے گا

دن بدل جائیں گے مہینوں میں

ہو کھنڈر، چاہے دل کہ ویرانہ

مشترک ہیں صفات تینوں میں


شہزور خاور

No comments:

Post a Comment