Showing posts with label اسامہ جمشید. Show all posts
Showing posts with label اسامہ جمشید. Show all posts

Tuesday, 17 October 2023

کبھی کچھ بھول جاتا ہوں کبھی کچھ یاد کرتا ہوں

 کبھی کچھ بھول جاتا ہوں کبھی کچھ یاد کرتا ہوں​

مجھے بے چین رکھتی ہیں تِری دلدار سی آنکھیں​

سمجھ میں وہ تو آتا ہے، سمجھ پر میں نہیں پاتا​

بہت آسان چہرے پر بہت دُشوار سی آنکھیں​

مجھے لگتا تھا بدلو گے، مگر بدلے نہیں ہو تم​

وہی سنگین سا لہجہ، وہی ہُشیار سی آنکھیں

Wednesday, 31 May 2023

بطور تبرک زیارت کو آیا کرو

 بطور تبرک زیارت کو آیا کرو


اب سراسر ہتک ہو رہی ہے مِرے ان چراغوں کی

جو بھیگی راتوں میں روشن رہے

یہ مِرا خون کتنا جلا اور جلتا رہا

اور مِرے جسم پر کتنی آنکھوں نے تعویذ ٹانکے

مِری کج مزاجی پہ حسرت کی چادر چڑھی

ہاں میں زندہ مزار اب بنا ہوں

Friday, 26 May 2023

وہ جس نے فیصلہ کرنے کا پیشہ چن لیا آخر

 رحم کی اپیل


وہ جس نے فیصلہ کرنے کا پیشہ چن لیا آخر

اسے کہہ دو؛ قلم کو اب ذرا زحمت عطا کر دے

مجھے زنداں میں ڈالے وہ مجھے سُولی چڑھا دے 

یا کوئی کچھ بھی سزا دے دے

میں سب تسلیم کرتا ہوں

Saturday, 25 February 2023

تری چاہت کے موسم کی برستی دوسری بارش

تِری چاہت کے موسم کی برستی دوسری بارش

نومبر کی شبِ دوئم میں بھیگا ہوں

میں دن بھر جتنی سڑکوں سے گزرتا تھا

وہاں پر زرد پتے تھے

جو مجھ کو سرد کرتے تھے

بتاتے تھے کہ چاہت میں

Wednesday, 28 July 2021

ہم مطلع وحشت پہ چمکتے ہوئے تارے

ہم مطلعِ وحشت پہ چمکتے ہوئے تارے 

کوئی تو کسی سمت سے اے دوست پُکارے 

اس دشتِ تغافل میں ہے بس تیرا سہارہ

اے عشق مِرے دوست مجھے جان سے پیارے

اک بحرِ تمنّا ہے میں ساحل پہ کھڑا ہوں 

کوئی تِرے لہجے میں مِرا نام پُکارے

Tuesday, 29 December 2020

لبوں تک آئی ہے اک لہر میرے سینے سے

 لبوں تک آئی ہے اک لہر میرے سینے سے

ہنسی میں ڈوب گیا ہوں نکل کے گریے سے

کواڑ کھول کے دیکھا تِری گلی کی طرف

سراب ہی نظر آیا مجھے دریچے سے

یہ مہر و ماہ یہ تارے بھی ماند پڑتے گئے

وہ شاہزادی جو نکلی تھی اپنے حجرے سے