تم سمجھتے نہیں جذبات، تمہیں کیا معلوم
ہجر کے میرے یہ دن رات تمہیں کیا معلوم
میرے سینے میں یہ نشتر کی طرح چبھتے ہیں
اس زمانے کے سوالات، تمہیں کیا معلوم
تم تو سورج ہو ہوئی شام تو پھر ڈوب گئے
چاندنی رات، ملاقات، تمہیں کیا معلوم
تم سے بھی کوئی جدا ہو تو پتہ چل جائے
میری آنکھوں کی یہ برسات تمہیں کیا معلوم
شعر کہتی ہو فقط اس کے تصور میں ندا
شاعری، عمدہ خیالات، تمہیں کیا معلوم
ندا اعظمی
No comments:
Post a Comment