تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے
نہ زندگی کی خوشی ہے نہ موت کا غم ہے
وہ ایک اشک کا قطرہ جو حاصلِ غم ہے
وہی تو زخمِ جگر کا ہمارے مرہم ہے
مقام اپنا ہے اس طرح دار فانی میں
کہ جیسے دامنِ گل پر ثبات شبنم ہے
بدل سکے نہ قفس کے مصائب و آلام
ہماری فطرتِ آزاد کتنی محکم ہے
مِٹا چکے تھے جو مجھ کو مثالِ حرفِ غلط
زباں پہ ان کی میرا نام ہے یہ کیا کم ہے
ہمارے عشق کا دلکش اثر ہوا روشن
کسی کی آنکھ میں آنسو ہے زلفِ برہم ہے
روشن بنارسی
No comments:
Post a Comment