Sunday, 11 September 2022

تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے

 تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے

نہ زندگی کی خوشی ہے نہ موت کا غم ہے

وہ ایک اشک کا قطرہ جو حاصلِ غم ہے

وہی تو زخمِ جگر کا ہمارے مرہم ہے

مقام اپنا ہے اس طرح دار فانی میں

کہ جیسے دامنِ گل پر ثبات شبنم ہے

بدل سکے نہ قفس کے مصائب و آلام

ہماری فطرتِ آزاد کتنی محکم ہے

مِٹا چکے تھے جو مجھ کو مثالِ حرفِ غلط

زباں پہ ان کی میرا نام ہے یہ کیا کم ہے

ہمارے عشق کا دلکش اثر ہوا روشن

کسی کی آنکھ میں آنسو ہے زلفِ برہم ہے


روشن بنارسی

No comments:

Post a Comment