Sunday, 11 September 2022

شوخی ادا غرور شرارت خریدئیے

 شوخی ادا غرور شرارت خریدئیے

چاندی اچھالیے تو قیامت خریدئیے

اٹکی ہوئی ہے روح پرانی تراش میں

کس دل سے عصرِ حال کی جدت خریدئیے

اہلِ جہاں کا اور بدلنے لگا مذاق

فکر و نظر بھی حسبِ ضرورت خریدئیے

ظاہر بہت حسین ہے باطن گھناؤنا

پچھتائیے گا آپ مجھے مت خریدئیے

قرآن کھولنے کی ضرورت نہیں رہی

بِکتی ہے صبح و شام تلاوت خریدئیے

پک جائے گا تو آپ ٹپک جائے گا جناب

آنگن میں شاخ آئی ہے، پھل مت خریدئیے


حفیظ مومن

No comments:

Post a Comment