عام عورت کے سپنے
عام سی عورت میں بھی ہوں
جاگتے سپنے بُنتی ہوں
چار دیواری بام و در
خواب نگر میں اپنا گھر
بالکنی میں جُھولا ہو
دھوپ میں سایہ پھیلا ہو
شام کی چائے، باتیں ہوں
چاند سے روشن راتیں ہوں
خواب سُہانے رکھتی ہوں
روز حقیقت سہتی ہوں
میز کا شیشہ ٹُوٹا ہے
پیر کا جوتا چھوٹا ہے
گیس کے بِل کا، بجلی کا
ریٹ بڑھا ہے سبزی کا
تار جلی ہے موٹر کی
ٹھیک نہیں ہے نلکا بھی
بدلتا موسم، بیماری
فیس، دوا، نسخہ، پرچی
عید بقر، قربانی پر
میل جول میں، شادی پر
سفر، سلامی اور تحفے
بیگ، کتابیں اور کپڑے
سالگرہ ہے مُنے کی
کیک، سجاوٹ، کھانے بھی
باس کی دعوت گھر پر ہے
مرغ، مٹن بھی مہنگا ہے
روز ضرورت بڑھتی ہے
دام سے گاڑی چلتی ہے
ڈھیر لگا ہے خرچوں کا
دام بڑھا ہے سپنوں کا
جوڑ جاڑ کر کچھ پیسے
بچا رہی تھی خرچے سے
اور چُھپا کر سپنوں کو
چوٹ لگائی گَلے کو
کود پڑے سِکے چَھن سے
ٹوٹ گیا گَلہ پھر سے
تابندہ سراج
No comments:
Post a Comment