Sunday, 11 September 2022

تیرے ہونٹوں پہ جو ہنسی ہے ناں

 تیرے ہونٹوں پہ جو ہنسی ہے ناں

میرے بوسے کی مخبری ہے ناں

جھیل سیف الملوک نے پوچھا

جو تیرے ساتھ ہے، پری ہے ناں

لاؤں تاویل کیا محبت کی

ہو گئی ہے تو ہو گئی ہے ناں

ہے قسم عمر بھر نہ ملنے کی

پھر تو یہ ہجر عارضی ہے ناں

آپ سے خوف آ رہا ہے مجھے

آپ کا نام آدمی ہے ناں؟

مر چلے ہم مگر بسر نہ ہوئی

یہ جو چھوٹی سی زندگی ہے ناں

آئینہ کیوں یقیں نہیں کرتا؟

میں وہی ہوں اور تُو وہی ہے ناں

جائیے لوٹ جائیے صاحب

آپ کی پیاس بجھ گئی ہے ناں

اور کیا چاہیے شہاب عالم

عشق ہے اور شاعری ہے ناں


شہاب عالم

No comments:

Post a Comment