تیرے ہونٹوں پہ جو ہنسی ہے ناں
میرے بوسے کی مخبری ہے ناں
جھیل سیف الملوک نے پوچھا
جو تیرے ساتھ ہے، پری ہے ناں
لاؤں تاویل کیا محبت کی
ہو گئی ہے تو ہو گئی ہے ناں
ہے قسم عمر بھر نہ ملنے کی
پھر تو یہ ہجر عارضی ہے ناں
آپ سے خوف آ رہا ہے مجھے
آپ کا نام آدمی ہے ناں؟
مر چلے ہم مگر بسر نہ ہوئی
یہ جو چھوٹی سی زندگی ہے ناں
آئینہ کیوں یقیں نہیں کرتا؟
میں وہی ہوں اور تُو وہی ہے ناں
جائیے لوٹ جائیے صاحب
آپ کی پیاس بجھ گئی ہے ناں
اور کیا چاہیے شہاب عالم
عشق ہے اور شاعری ہے ناں
شہاب عالم
No comments:
Post a Comment