عارضی محبت
تم بھی قصہ عشق پھر پڑھنا
میں بھی دہرا رہا ہوں سالوں سے
واقفیت ہونہی نہیں غم سے
کون کس موڑ پر کہاں ہارا
صفحۂ زیست غور سے پڑھنا
کس کو الفت تھی چشمِ پر نم سے
تم نے ہر موڑ پہ ہی حد کر دی
ہر جگہ تم نے چھوڑنا چاہا
عشق ہوتا رہا مِرے دم سے
میں ہی پاگل تھا نہ سمجھ پایا
ورنہ تو عارضی محبت تھی
کون کرتا ہے عشق شبنم سے
محسن علی جعفری
No comments:
Post a Comment