Sunday, 11 September 2022

خود اپنے سارے مصائب زباں پہ لاتے ہوئے

 خود اپنے سارے مصائب زباں پہ لاتے ہوئے

وہ رو رہا تھا مجھے مرثیہ سناتے ہوئے

مجھ ایسے لوگ کبھی دلربا نہیں ہوتے

کہ جن کو موت سی پڑتی ہو مسکراتے ہوئے

پھر اس مکان کی دیوار میں شگاف پڑا

کہ اس نے دیکھ لیا تھا کسی کو آتے ہوئے

ہمارے گاؤں کہ سارے بزرگ مر گئے ہیں

خود اپنے ہاتھ سے اپنے گلے دباتے ہوئے

ہجومِ ہجر سے آیا ہوا وہ شخص تراب

کبھی نظر نہ جُھکائے گا خوف کھاتے ہوئے


تراب گردیزی

No comments:

Post a Comment