خود اپنے سارے مصائب زباں پہ لاتے ہوئے
وہ رو رہا تھا مجھے مرثیہ سناتے ہوئے
مجھ ایسے لوگ کبھی دلربا نہیں ہوتے
کہ جن کو موت سی پڑتی ہو مسکراتے ہوئے
پھر اس مکان کی دیوار میں شگاف پڑا
کہ اس نے دیکھ لیا تھا کسی کو آتے ہوئے
ہمارے گاؤں کہ سارے بزرگ مر گئے ہیں
خود اپنے ہاتھ سے اپنے گلے دباتے ہوئے
ہجومِ ہجر سے آیا ہوا وہ شخص تراب
کبھی نظر نہ جُھکائے گا خوف کھاتے ہوئے
تراب گردیزی
No comments:
Post a Comment