تو ہمارے مکان کے نزدیک
شمع رو شمع دان کے نزدیک
ایک دریا کہیں سے آ نکلا
میں کھڑا تھا چٹان کے نزدیک
اک صدا خالی جیب پھرتی ہے
خامشی کی دکان کے نزدیک
مرہمِ جاں اٹھائیے صاحب
تیر رکھیے کمان کے نزدیک
اس حسیں کو نہیں بھٹکنے دیا
میں نے اس کے گمان کے نزدیک
ہاں ہمارا بھی کوئی رہتا ہے
نیلگوں آسمان کے نزدیک
زوہیب عالم
No comments:
Post a Comment