اسے پایا تو جینا آ گیا ہے
انگوٹھی میں نگینہ آ گیا ہے
محبت اس قدر آساں نہیں ہے
سخاوت کا سفینہ آ گیا ہے
چنا ہے جب سے سچائی کا رستہ
محبت کا مدینہ آ گیا ہے
اٹھائے ہاتھ جو دعا کے لیے
مِرے ہاتھوں خزینہ آ گیا ہے
اسی کے قرب کی ہے یہ کرامت
محبت کا قرینہ آ گیا ہے
شکیلہ رفیق
No comments:
Post a Comment