میں آئینے کے لیے آئینہ اٹھا لایا
کہ بوجھ جتنا بھی مجھ سے اٹھا، اٹھا لایا
مِری بلا سے کوئی کچھ بھی اب اٹھا لائے
میں اپنے حصے کے کرب و بلا اٹھا لایا
تھکن سے چُور ہوں اب تک سمجھ نہیں آتا
میں تیرے شہر سے ایسا بھی کیا اٹھا لایا
چراغ جلتا ہوا چھوڑ کر گیا تھا ابھی
اک اور ہجر میں بعد از دعا اٹھا لایا
میں اس کی جان کا دشمن کہیں نہ بن جاؤں
وہ کون ہے جو مِرا نقشِ پا اٹھا لایا
میں پہلے دیر تلک دیکھتا رہا اس کو
پھر اس کی بزم سے صبر و رضا اٹھا لایا
وہ مجھ سے ملنے جب آیا تو جلدبازی میں
وہ پہلا عشق نہیں دوسرا اٹھا لایا
جب اس کے ہاتھ مِرا جرم لگ سکا نہ کوئی
مِری حیات کا اک سانحہ اٹھا لایا
سنا ہے تجھ کو بھی نسبت ہے خاص لوگوں سے
سو تیرے پاس ترا تذکرہ اٹھا لایا
شہزاد راؤ
No comments:
Post a Comment