میں اپنے ہونٹوں سے
ایک قہقہہ اتار کر
تمہاری طرف اچھالتا ہوں
تمہارے اندر شور مچاتا اداسیوں کا جنگل
میرے قہقہے کا وار نہیں سہہ پاتا
اور تمہارے وجود سے مسکراہٹوں کے
کارواں نمودار ہونے لگتے ہیں
تم یوں کرو
اپنے اداس بدن کو
میرے ہونٹوں کا پتہ دے دو
منیر احمد فردوس
No comments:
Post a Comment