Monday, 10 May 2021

اشک چشم بت بے جاں سے نکل سکتا ہے

 اشک چشمِ بتِ بے جاں سے نکل سکتا ہے

آہِ پُر سوز سے پتھر بھی پگھل سکتا ہے

اپنے اندازِ تکلم کو بدل دے، ورنہ

میرا لہجہ بھی تِرے ساتھ بدل سکتا ہے

لوگ کہتے تھے کہ پھلتا نہیں نفرت کا شجر

ہم کو لگتا ہے کہ اس دور میں پھل سکتا ہے

میرے سینے میں محبت کی تپش باقی ہے

میری سانسوں سے تِرا حسن پگھل سکتا ہے

چاند کی چاہ میں اڑتے ہوئے پنچھی کی طرح

دل بھی ناداں ہے کسی شے پہ مچل سکتا ہے

جذبۂ عشق سے روشن ہے مِرا دل ناظم

یہ دِیا تیز ہواؤں میں بھی جل سکتا ہے


ناظم بریلوی

No comments:

Post a Comment