Monday, 10 May 2021

ساتھ لے کر اپنی بربادی کے افسانے گئے

 ساتھ لے کر اپنی بربادی کے افسانے گئے

آبروئے انجمن تھے جو وہ دیوانے گئے

ابتدا یہ تھی کہ دنیا بھر کی نظریں ہم پہ تھیں

انتہا یہ ہے کہ خود سے بھی نہ پہچانے گئے

تیری فیاضی سے کب انکار ہے ساقی، مگر

ایسے میکش بھی ہیں کچھ جن تک نہ پیمانے گئے

محفلیں مہکی ہوئی تھیں جن سے وہ گل کیا ہوئے

شاید اب وہ گوشۂ تُربت کو مہکانے گئے

دوسروں کے غم میں روتی تھیں جو شمعیں بجھ گئیں

آگ میں غیروں کی جلتے تھے جو پروانے گئے

تشنگی سے ظرف کو اے ساقئ محفل نہ تول

اُٹھ گئے تو عمر بھر کو پھر یہ دیوانے گئے

مشورے تو عقل بھی دیتی رہی راہی، مگر

دل نے جو فرمائے تھے وہ فیصلے مانے گئے


راہی شہابی

No comments:

Post a Comment