Thursday, 25 March 2021

مہکتے پھول سے موج صبا سے ملتے ہیں

 مہکتے پھول سے، موجِ صبا سے ملتے ہیں

اک اور بار چلو بے وفا سے ملتے ہیں

فضا مہکتی ہے اس کے بدن کی خوشبو سے

گُلوں کے رنگ، رُخِ دلرُبا سے ملتے ہیں

چمن میں خار لپٹتے ہیں اس طرح مجھ سے

کہ جیسے لوگ کسی آشنا سے ملتے ہیں

یہ رنگ و بُو کے تحائف بھی شاخِ گُل تجھ کو

کسی اسیرِِ قفس کی دُعا سے ملتے ہیں

نمک چھڑکتے ہیں وہ میرے دل کے زخموں پر

جو دوستوں کی طرف سے دِلاسے ملتے ہیں

جو نامہ بر نہیں آیا تو کیا ہُوا اے دل

پیام ان کی گلی کی ہوا سے ملتے ہیں

سنا ہے ناز پیشماں ہیں وہ جفاؤں پر

ملیں تو دیکھیے اب کس ادا سے ملتے ہیں


سعید ناز

No comments:

Post a Comment