لبوں کو کھولنے تو دو زبانیں بھول جائیں گے
یہ پنچھی قید میں اپنی اڑانیں بھول جائیں گے
نئی تہذیب کی جنگیں ذہانت کی لڑائی ہیں
سپاہی سب کی جنگوں میں کمانیں بھول جائیں گے
بدلتے رنگ چہرے کے مری مرہونِ منت ہیں
عطر دیں گے تو پھولوں کی دُکانیں بھول جائیں گے
ابھی تو شوق ہے سب کو زبانی بات کرنے کا
عمل کا وقت آیا تو یہ جانیں بھول جائیں گے
ہمارا مسجدوں سے واسطہ محدود رہتا ہے
یہی ڈر ہے جواں نغمے اذانیں بھول جائیں گے
مشال مراد
No comments:
Post a Comment