Thursday, 25 March 2021

لبوں کو کھولنے تو دو زبانیں بھول جائیں گے

 لبوں کو کھولنے تو دو زبانیں بھول جائیں گے

یہ پنچھی قید میں اپنی اڑانیں بھول جائیں گے

نئی تہذیب کی جنگیں ذہانت کی لڑائی ہیں

سپاہی سب کی جنگوں میں کمانیں بھول جائیں گے

بدلتے رنگ چہرے کے مری مرہونِ منت ہیں

عطر دیں گے تو پھولوں کی دُکانیں بھول جائیں گے

ابھی تو شوق ہے سب کو زبانی بات کرنے کا

عمل کا وقت آیا تو یہ جانیں بھول جائیں گے

ہمارا مسجدوں سے واسطہ محدود رہتا ہے

یہی ڈر ہے جواں نغمے اذانیں بھول جائیں گے


مشال مراد

No comments:

Post a Comment