پھر سے کوئی منظر پس منظر سے نکالو
ڈوبے ہوئے سورج کو سمندر سے نکالو
لفظوں کا تماشا تو بہت دیکھ چکے ہم
اب شعر کوئی فکر کے محور سے نکالو
گر عشق سمجھتے ہوتو رکھ لو مجھے دل میں
سودا ہوں اگر میں تو مجھے سر سے نکالو
میں کب سے صدا بن کے یہاں گونج رہاہوں
اب تو مجھے اس گنبدِ بے در سے نکالو
وہ درد بھری چیخ میں بھولا نہیں اب تک
کہتا تھا کوئی بت مجھے پتھر سے نکالو
یہ شخص ہمیں چین سے رہنے نہیں دے گا
تنہائیاں کہتی ہیں اسے گھر سے نکالو
بھارت بھوشن پنت
No comments:
Post a Comment