Thursday, 25 March 2021

پھر سے کوئی منظر پس منظر سے نکالو

 پھر سے کوئی منظر پس منظر سے نکالو

ڈوبے ہوئے سورج کو سمندر سے نکالو

لفظوں کا تماشا تو بہت دیکھ چکے ہم

اب شعر کوئی فکر کے محور سے نکالو

گر عشق سمجھتے ہوتو رکھ لو مجھے دل میں

سودا ہوں اگر میں تو مجھے سر سے نکالو

میں کب سے صدا بن کے یہاں گونج رہاہوں

اب تو مجھے اس گنبدِ بے در سے نکالو

وہ درد بھری چیخ میں بھولا نہیں اب تک

کہتا تھا کوئی بت مجھے پتھر سے نکالو

یہ شخص ہمیں چین سے رہنے نہیں دے گا

تنہائیاں کہتی ہیں اسے گھر سے نکالو


بھارت بھوشن پنت

No comments:

Post a Comment