نگاہ سے نگاہ کو ملا رہے ہیں صبح و شام
وہ دل کی بیقراری کو بڑھا رہے ہیں صبح و شام
میں عشق میں کوئی ندی کہاں سے جاری اب کروں
تلاش روزگار ہی تھکا رہے ہیں صبح و شام
نہ فکر ملک کی نہ فکر قوم کو جگانے کی
یہ راہبر عجیب ہیں سُلا رہے ہیں صبح و شام
ہمیشہ فکر رہتی ہے مزید سے مزید کی
یہ عشق رزق کی طرح کما رہے ہیں صبح و شام
یہ کوششیں ہیں رائیگاں یوں حال دل چھپانے کی
تمہارے شعر رازِ دل بتا رہے ہیں صبح و شام
نہ فکر کچھ کمانے کی نہ فکر کچھ گنوانے کی
وہ بچپنے کے دن مجھے بلا رہے ہیں صبح و شام
مشاعرے میں کاش کوئی تو نیا کلام ہو
وہی گھسی پٹی غزل سنا رہے ہیں صبح و شام
کاش صدیقی
No comments:
Post a Comment