Thursday, 25 March 2021

نگاہ سے نگاہ کو ملا رہے ہیں صبح و شام

 نگاہ سے نگاہ کو ملا رہے ہیں صبح و شام

وہ دل کی بیقراری کو بڑھا رہے ہیں صبح و شام

میں عشق میں کوئی ندی کہاں سے جاری اب کروں

تلاش روزگار ہی تھکا رہے ہیں صبح و شام

نہ فکر ملک کی نہ فکر قوم کو جگانے کی

یہ راہبر عجیب ہیں سُلا رہے ہیں صبح و شام

ہمیشہ فکر رہتی ہے مزید سے مزید کی

یہ عشق رزق کی طرح کما رہے ہیں صبح و شام

یہ کوششیں ہیں رائیگاں یوں حال دل چھپانے کی

تمہارے شعر رازِ دل بتا رہے ہیں صبح و شام

نہ فکر کچھ کمانے کی نہ فکر کچھ گنوانے کی

وہ بچپنے کے دن مجھے بلا رہے ہیں صبح و شام

مشاعرے میں کاش کوئی تو نیا کلام ہو

وہی گھسی پٹی غزل سنا رہے ہیں صبح و شام


کاش صدیقی 

No comments:

Post a Comment