Tuesday, 21 December 2021

کارنس پر پڑا ہوا برتن جانتا

 کارنس پر پڑا ہوا برتن


دھوپ کیا ہے

یہ کس رنگ کی

اور کیسی ہوا کرتی ہے

میں نہیں جانتا

کیونکہ میں تو، زمانے ہوئے

بس نمی جانتا ہوں

نمی، جو مجھے زنگ کرتی ہے

کرتی چلی جا رہی ہے

مجھے تو فقط گرد معلوم ہے 

جو زمانوں سے مجھ پر پڑی جا رہی ہے

سنو، تم کسی دن مجھے ہنس کے دیکھو

اگر میں نہ چمکوں تو پھر بات کرنا


ذیشان حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment