Tuesday, 21 December 2021

دیکھا ہے کہیں رنگ سحر وقت سے پہلے

 دیکھا ہے کہیں رنگِ سحر وقت سے پہلے

شبنم نہ اُگا دیدۂ تر! وقت سے پہلے

اے طائرِ شب!! روکشِ گلبانگِ سحر ہو

خوشبو نہیں دیتا گلِ تر وقت سے پہلے

وہ حسن سراپا ابھی بے پردہ کہاں ہے

کیوں اٹھے محبت کی نظر وقت سے پہلے

موجوں کے جھکولے ہوں کہ طوفاں کے تھپیڑے

قطرہ کہیں بنتا ہے گُہر وقت سے پہلے

اے خانہ بر اندازِ چمن! تھوڑا تأمل

ملتی نہیں شاخِ گلِ تر وقت سے پہلے

تکمیلِ محبت کے لیے چاہیۓ اک عمر

ہوتا نہیں میدان یہ سر وقت سے پہلے

بینائیِ ناقص کا کرشمہ ہے یہ طرفہ

عیبوں میں نظر آیا ہنر وقت سے پہلے


طرفہ قریشی

No comments:

Post a Comment