Monday, 4 April 2022

اک فرشتہ کہیں موت کا گیت گانے لگا

 موت کا گیت


خدا اپنے گھر میں بہت خوش تھا

مہمان آئے ہیں

مہمان سامان میں اپنی اپنی 

دعاؤں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے منتظر تھے

کہ کب یہ خدا کے مقرب فرشتے 

دعاؤں پہ در مستجابی کے کھولیں

فرشتوں نے اذنِ خداوندی پایا تو

اک ایک کر کے دعاؤں پہ سب در کشادہ ہوئے

اور سبھی در کشادہ ہوئے تھے

کہ یک دم دعا گونج اٹھی

"خدایا مِری ننھی زینب کا پردہ سلامت رہے"

دعا پر خدا مسکرانے لگا

اک فرشتہ کہیں موت کا گیت گانے لگا


ذیشان حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment