موت کا گیت
خدا اپنے گھر میں بہت خوش تھا
مہمان آئے ہیں
مہمان سامان میں اپنی اپنی
دعاؤں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے منتظر تھے
کہ کب یہ خدا کے مقرب فرشتے
دعاؤں پہ در مستجابی کے کھولیں
فرشتوں نے اذنِ خداوندی پایا تو
اک ایک کر کے دعاؤں پہ سب در کشادہ ہوئے
اور سبھی در کشادہ ہوئے تھے
کہ یک دم دعا گونج اٹھی
"خدایا مِری ننھی زینب کا پردہ سلامت رہے"
دعا پر خدا مسکرانے لگا
اک فرشتہ کہیں موت کا گیت گانے لگا
ذیشان حیدر نقوی
No comments:
Post a Comment