Saturday, 21 November 2020

پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے

پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے

وہ سب جانتا ہے

اسے علم ہے کون سے راستے پر اڑے گا تو 

انتم سرے پر اسے اپنے دن بھر کا چوگا ملے گا

کہاں کون سی رہگزر اس کو محبوب چڑیا کی دہلیز تحفہ کرے گی

کہاں کون سی شاخ پر بیٹھ کر 

اپنی محبوب چڑیا کو آنگن میں اڑتا ہوا دیکھنا ہے

اداسی کے کس جال سے پر بچاتے ہوئے لوٹنا ہے

وہ سب جانتا ہے


کہاں دھوپ چھاؤں کے ادغام پر 

لاکھ شکلیں بدلتے ہوئے بھوت بادل سے ملنا ہے 

اور مل کے ہنسنا بھی ہے

کون سے موڑ پر اک شجر کی جواں موت پر 

اس کے باسی پرندوں کے ہمراہ رونا بھی ہے

شام ڈھلتے ہی اپنی ابد تاب تنہائی کے گھونسلے میں پلٹنا بھی ہے

وہ یہ سب جانتا ہے

یہ سب جاننا ہی تو اس کی سزا ہے

پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے 


ذیشان حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment