Saturday, 21 November 2020

نابلد نظم

نابلد نظم


تم نے نہیں دیکھا

کہ تمہاری بے التفاتی نے

تکلفات کو جنم دے دیا

تم نے نہیں سوچا

کہ تمہاری خاموشی نے

مجھے نظم در نظم عطا کی

تمہارے نابلد شکوؤں نے

آگ کو تپش اور

خام کو کندن کر دیا

تمہاری ہنسی نے

پھولوں کو دریا کا رستہ دیا

دریاؤں کے بند

زیادہ دیر رکتے نہیں

(خشک پتیوں کی بات یہاں نہیں ہو رہی)

تمہارا التفات

گناہ

اور بے رخی جہنم ہے

تمہاری محبت نے مجھے

التباس کے سرخ کناروں سے تاک لیا ہے

اور اب اقرار کے جرمن شیفرڈز

تمہاری اداؤں کے جنگل میں

ملتفت ثبوت ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہانپ چکے ہیں


فاطمہ مہرو

No comments:

Post a Comment