میں ایک دن جو خدا کے بھی روبرو نہ ہوا
تو کیا برا ہے کہ پھر محوِ جستجو نہ ہوا
میں کس کے ہاتھ کو چوموں گا بر سرِ وحشت
میں کس کا ہو کے رہوں گا جو میرا تُو نہ ہوا
پڑے ہیں اپنے خداؤں کو پوجنے میں سبھی
کسی کا سینہ کسی سے ذرا رفو نہ ہوا
کفوں کا رنگ اڑا ہے تو پھر یہ جان سکا
ہمارا غم تیری آنکھوں سا ہو بہو نہ ہوا
حسین لوگ بھی خاکی لباس اوڑھ چکے
اور ان کے لب سے کوئی غرقِ آرزو نہ ہوا
یہ ہونٹ ہلتے رہے ہیں تو ایسا غم دیکھا
میں اپنے آپ سے بولا پہ گفتگو نہ ہوا
بندھے ہوئے ہیں خدا سے وہ لوگ بھی ابرار
جو جیسے خواب کو دیکھے تھے ہو بہو نہ ہوا
ابرار مظفر
No comments:
Post a Comment