رات بهرتی چلی جاتی ہے فسوں سینے میں
کیا خبر میں بهی رہوں یا نہ رہوں سینے میں
دیکھ لے کیسے توازن سے لیے پھرتا ہوں
سر کی گھٹڑی میں خرد اور جنوں سینے میں
ریت ایسی ہے مِرے پاؤں دھنسے جاتے ہیں
تُو بتا کیسے چلوں، کیسے چلوں سینے میں
تیری پوشاک سے خوشبو جو ادھر آ جائے
پھر تو میں کھینچ کے اک سانس بھروں سینے میں
کل مِرے دل نے مِرے کان میں سرگوشی کی
کیا تماشا ہو اگر میں نہ رہوں سینے میں
ذیشان حیدر نقوی
No comments:
Post a Comment