Sunday, 18 April 2021

رات بهرتی چلی جاتی ہے فسوں سینے میں

 رات بهرتی چلی جاتی ہے فسوں سینے میں

کیا خبر میں بهی رہوں یا نہ رہوں سینے میں

دیکھ لے کیسے توازن سے لیے پھرتا ہوں

سر کی گھٹڑی میں خرد اور جنوں سینے میں

ریت ایسی ہے مِرے پاؤں دھنسے جاتے ہیں

تُو بتا کیسے چلوں، کیسے چلوں سینے میں

تیری پوشاک سے خوشبو جو ادھر آ جائے

پھر تو میں کھینچ کے اک سانس بھروں سینے میں

کل مِرے دل نے مِرے کان میں سرگوشی کی

کیا تماشا ہو اگر میں نہ رہوں سینے میں


ذیشان حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment