Sunday, 18 April 2021

یہ مری آنکھ مری آنکھ کا پانی اور میں

 یہ مِری آنکھ، مِری آنکھ کا پانی، اور میں

کتنے مخلص ہیں، تِری ہجر کہانی اور میں

اب تِری یاد میں روتے ہیں بہت ہم تینوں

گھر کے کمرے میں دِیا، رات کی رانی اور میں

مجھ کو تنہائی، اسے شہر کے چوراہے سے عشق

لڑتے رہتے ہیں سدا میری جوانی اور میں

کوئی بھی در مجھے پابند نہیں کر پایا

ساتھ رہتے ہیں مِری نقل مکانی اور میں

یہ تِرا حسن کہ حوریں بھی قصیدے لکھیں

یہ مِرا عشق، مِری سادہ بیانی اور میں

ایک دُوجے کو بہت دیر تلک تکتے رہے

اُسکی آنکھوں میں اُترتے ہوئے معنی اور میں

پھر نئے عشق کا انجام ہوا تنہائی

پھر وہی دشت، وہی راہ پرانی اور میں


مجذوب ثاقب

No comments:

Post a Comment