Sunday, 18 April 2021

ٹھہرا ہے قریب جان آ کر

 ٹھہرا ہے قریب جان آ کر

جانے کا نہیں یہ دھیان آ کر

آئینہ لیا تو تیری صورت

ہنسنے لگی درمیان آ کر

ٹپکے نہ یہ اشک چشم غم سے

جائے نہ یہ میہمان آ کر

پلٹی جو ہوا گئے دنوں کی

دہرا گئی داستان آ کر

قدموں سے لپٹ گئے ہیں رستے

آتا ہی نہیں مکان آ کر

جا پہنچی زمین اس سے ملنے

ملتا نہ تھا آسمان آ کر


شاہدہ حسن

No comments:

Post a Comment