Sunday, 18 April 2021

فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہے

 فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہے

کسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہے

تھا واجبی سا تعلق تو بات اچھی تھی

تعلقات بڑھانے سے بات بگڑی ہے

ہم اختلاف کو آپس میں طے نہ کر پائے

کسی کو بیچ بلانے سے بات بگڑی ہے

محبتوں میں تکلف بھی ہے سمِ قاتل

قدم سنبھل کے اٹھانے سے بات بگڑی ہے

تمہارے ساتھ بگڑنے پہ کچھ ملال نہیں

ہماری ایک زمانے سے بات بگڑی ہے

فضائے وہم در آئی تعلقات کے بیچ

گھڑی گھڑی کے فسانے سے بات بگڑی ہے

ہم اپنی ذات کی تردید کر نہیں پائے

انا کے زعم میں آنے سے بات بگڑی ہے

تِرے بغیر گزارہ نہیں کسی صورت

اسے یہ بات بتانے سے بات بگڑی ہے


افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment