Sunday, 18 April 2021

لرزتے ہاتھ سے سیدھا لحاف کرتے ہوئے

 لرزتے ہاتھ سے سیدھا لحاف کرتے ہوئے

وہ رو رہا تھا مِرے زخم صاف کرتے ہوئے

یہ شہرِ ابن زیاد اور یزید مسلک ہے

یہاں پہ سوچیے گا اعتکاف کرتے ہوئے

چراغ ہم نے چھپائے ہیں کیا تہِ دامن

ہوائیں گزری ہیں دل میں شگاف کرتے ہوئے

نہ پوچھ کتنی محبت ہوئی ہے خرچ مِری

تمام شہر کو اپنے خلاف کرتے ہوئے

اسی لیے تو مِرے جرم ہیں سبھی کو پسند

کہ میں جھجکتا نہیں اعتراف کرتے ہوئے

کسی کے لمس کی سردی اتر گئی ہے آج

دہکتی دھوپ بدن کا غلاف کرتے ہوئے

ہوا میں نوحہ کناں ہیں تھکے پروں کے ساتھ

پرندے جلتے شجر کا طواف کرتے ہوئے

ثواب سارے مِرے لے گیا وہ شخص فقیہہ

کسی گناہ پہ مجھ کو معاف کرتے ہوئے


فقیہہ حیدر

No comments:

Post a Comment