Sunday, 18 April 2021

زندگی ویراں پڑی ہے حادثوں کے شہر میں

 زندگی ویراں پڑی ہے حادثوں کے شہر میں

روشنی گم سم کھڑی ہے جگنوؤں کے شہر میں

ساری کلیاں رو پڑیں اور پھول مرجھانے لگے

شاخِ غم تنہا کھڑی ہے رونقوں کے شہر میں

ڈھونڈ کر لاؤں کہاں سے میں خوشی کے چار پل

کہ تہی دامن ہوں میں تو حسرتوں کے شہر میں

کون ہے جس کو تمنا چاہے جانے کی نہ ہو

پر انا ٹھہری ہوئی ہے فاصلوں کے شہر میں

کاش ایسا ہو کہ میں رنج و الم کو بانٹ لوں

اور خوشی کے ساز چھیڑوں حسرتوں کے شہر میں

یہ سنا ہے شہر کی گلیوں میں سناٹا ہوا

کیا ہوا سب سو رہے ہیں رتجگوں کے شہر میں

آج بھی میں تو کھڑی ہوں آس کی دہلیز پر

منزلیں کس گام پر ہیں راستوں کے شہر میں


آئرین فرحت

No comments:

Post a Comment