رازِ الفت کو عیاں پل میں یہ کر دیتی ہے
آنکھ ہونٹوں سے بھی پہلے یہ خبر دیتی ہے
شدتِ کرب میں آ جاتی ہے اشکوں سے کمی
دل کو راحت مِرے یہ دیدۂ تر دیتی ہے
گُل یہ کی جائے تو مطلب ہے کہ سورج اُبھرا
شمع بجھ کر بھی اجالوں کی خبر دیتی ہے
تابِ نظارہ نہ ہو گر تو نہ رکھ دید کا شوق
ہے کوئی ذات جو آدابِ نظر دیتی ہے
کارواں سے جو بچھڑ جاتے ہیں اُٹھ اُٹھ کے اُنہیں
سمتِ منزل کا پتہ گردِ سفر دیتی ہے
سطحِ گویائی پہ اخلاص ہے لازم کوثر
یہ وہ خوشبو ہے جو لفظوں کو اثر دیتی ہے
کوثر نقوی
No comments:
Post a Comment