Friday, 16 April 2021

یوں تو ہر رنگ ہے محفل میں میرے چاروں طرف

 اے میری جانِ حیات

یوں تو ہر رنگ ہے محفل میں میرے چاروں طرف

اور ہر ساز ہے مصروف لبھانے میں مجھے

خوشبوؤں سے ہیں معطر یہ ہوائیں ساری

سات رنگوں میں ڈھلی آج فضائیں ساری

ہاں مگر تو جو نہیں

اک فقط تُو جو نہیں

ایسا لگتا بے کہ بے نور ہے سارا عالم

اور میں گم صم یہاں خاموش کھڑی سوچتی ہوں

ڈھیر تاروں کے حسیں جھرمٹ میں وہ جو مغرور کھڑا

سب سے حسیں چاند جو ہے

کتنا تنہا سا ہے

میں سوچتی ہوں

کیا یہ مجھ جیسا ہے 

یا تجھ جیسا


سارہ خان

No comments:

Post a Comment