Friday, 16 April 2021

میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں

 میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں

مگر اہل بزم میں کوئی بھی تو ادا شناس وفا نہیں

مِرے جسم و جاں پہ اسی کے سارے عذاب ثواب ہیں

وہی ایک حرف خود آگہی کہ ابھی جو میں نے کہا نہیں

نہ وہ حرف و لفظ کی داوری نہ وہ ذکر و فکر قلندری

جو مِرے لہو سے لکھی تھی یہ وہ قرارداد وفا نہیں

ابھی حسن و عشق میں فاصلے عدم اعتماد کے ہیں وہی

انہیں اعتبار وفا نہیں،۔ مجھے اعتبار جفا نہیں

وہ جو ایک بات تھی گفتنی وہی ایک بات شنیدنی

جسے میں نے تم سے کہا نہیں جسے تم نے مجھ سے سنا نہیں

میں صلیب وقت پہ کب سے ہوں مجھے اب تو اس سے اتار لو

کہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں میں مِرا فیصلہ بھی ہوا نہیں

مِرا شہر مجھ پہ گواہ ہے کہ ہرا ایک عہد سیاہ میں

وہ چراغ راہ وفا ہوں میں کہ جلا تو جل کے بجھا نہیں


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment