Friday, 16 April 2021

تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا

 تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا

ہر ایک رنج ہمارا جو بے حساب ہوا

اسے ستم نہیں اس کا تو اور کیا بولوں

سوال اور تھا کچھ، اور ہی جواب ہوا

نکل تو آیا ہے کردار خود کہانی سے

ہر ایک زخم مگر اس کا اک کتاب ہوا

ہوئی جو ہم پہ عنایت بہار کی اب کے

ہماری راہ کا خود خار ہی گلاب ہوا

وہ تم سے عشق ہو نفرت ہو رنج یا کچھ اور

ہوا ہے جو بھی ہمیں دل سے بے حساب ہوا


جیوتی آزاد 

No comments:

Post a Comment