تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا
ہر ایک رنج ہمارا جو بے حساب ہوا
اسے ستم نہیں اس کا تو اور کیا بولوں
سوال اور تھا کچھ، اور ہی جواب ہوا
نکل تو آیا ہے کردار خود کہانی سے
ہر ایک زخم مگر اس کا اک کتاب ہوا
ہوئی جو ہم پہ عنایت بہار کی اب کے
ہماری راہ کا خود خار ہی گلاب ہوا
وہ تم سے عشق ہو نفرت ہو رنج یا کچھ اور
ہوا ہے جو بھی ہمیں دل سے بے حساب ہوا
جیوتی آزاد
No comments:
Post a Comment