Sunday, 20 March 2022

چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی

 چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی

تا مرگ یہ رہے گی برابر لگی ہوئی

شکوے تو ہیں ہزاروں مگر ان کے روبرو

مہرِ سکوت ہے مِرے لب پر لگی ہوئی

سوزِ الم نے دل کو جگر کو جلا دیا

اے ہم نفس! یہ آگ ہے گھر گھر لگی ہوئی

اے فوق! دُختِ رِند کو کہوں کیا بقولِ ذوق

"چُھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی"


محمد دین فوق

منشی محمد الدین فوق

No comments:

Post a Comment