پیار کے بیج یہاں بونے نہیں دیتا ہے
یہ جہاں مجھ کو تِرا ہونے نہیں دیتا ہے
میں نے اک خواب دکھایا تھا تِری آنکھوں کو
اب وہی خواب مجھے سونے نہیں دیتا ہے
تُو بہت دیر سے آیا ہے مِری دنیا میں
مجھ کو اک شخص تِرا ہونے نہیں دیتا ہے
غیب سے آتا ہے اک ہاتھ مِرے کاندھے پر
ماں کا وہ ہاتھ مجھے رونے نہیں دیتا ہے
مجھ کو اب کون سمیٹے گا اپنی بانہوں میں
یہ تصور تو مجھے سونے نہیں دیتا ہے
آفاق خالد
No comments:
Post a Comment