کاش وہ پہلی محبت کے زمانے آتے
چاند سے لوگ مِرا چاند سجانے آتے
رقص کرتی ہوئی پھر باد بہاراں آتی
پھول لے کر وہ مجھے خود ہی بلانے آتے
ان کی تحریر میں الفاظ وہی سب ہوتے
یوں بھی ہوتا کہ کبھی خط بھی پرانے آتے
ان کے ہاتھوں میں کبھی پیار کا پرچم ہوتا
میرے روٹھے ہوئے جذبات منانے آتے
بارشوں میں وہ دھنک ایسی نکلتی اب کے
جس سے موسم میں وہی رنگ سہانے آتے
وہ بہاروں کا سماں اور وہ گل پوش چمن
ایسے ماحول میں وہ دل ہی دکھانے آتے
ہر طرف دیکھ رہے ہیں مِرے ہم عمر خیال
راہ تکتی ہوئی آنکھوں کو سُلانے آتے
اندرا ورما
No comments:
Post a Comment