وہ میرے شہر میں آیا ہوا ہے
کڑکتی دھوپ میں سایا ہوا ہے
دل برباد کو تیرے سبب سے
نئی الفت میں الجھایا ہوا ہے
محبت نے مِرے سے تند خو کو
مجھے ملنے کو اس نے تنگ کرتا
بطور خاص سلوایا ہوا ہے
ندامت سخت ہے پر ہے خوشی بھی
اسے خلوت میں بلوایا ہوا ہے
عارف اشتیاق
No comments:
Post a Comment