Wednesday, 19 August 2020

وہ میرے شہر میں آیا ہوا ہے

وہ میرے شہر میں آیا ہوا ہے
کڑکتی دھوپ میں سایا ہوا ہے
دل برباد کو تیرے سبب سے
نئی الفت میں الجھایا ہوا ہے
محبت نے مِرے سے تند خو کو
سر بازار کھنچوایا ہوا ہے
مجھے ملنے کو اس نے تنگ کرتا
بطور خاص سلوایا ہوا ہے
ندامت سخت ہے پر ہے خوشی بھی
اسے خلوت میں بلوایا ہوا ہے

عارف اشتیاق

No comments:

Post a Comment