تو مِری زندگی بنو گی تم
مر گیا میں تو کیا رہو گی تم
نہیں عادت کوئی بھلی تم میں
مجھے ظاہر ہے کیوں گنو گی تم
وہ جو زہرہ ہے، ہے مِری دیوی
کیا سلگتا ہوں کیا دہکتا ہوں
اب کہو! مجھ سے کب ملو گی تم
مِری عادت ہے کاٹ کھانے کی
مِرے بوسوں کو کیا سہو گی تم
میں جو ہوں میں ہوں سب نہیں ہوں میں
وہ جو وہ سب جنہیں پڑھو گی تم
عارف اشتیاق
No comments:
Post a Comment