Wednesday, 19 August 2020

چشم ساقی نے یہ کیا کھیل رچا رکھا ہے

چشمِ ساقی نے یہ کیا کھیل رچا رکھا ہے
کوئی زاہد کوئی مے خوار بنا رکھا ہے
وہ تصور میں میرے آئیں تو کیسے آئیں
دلِ بے تاب نے اک شور مچا رکھا ہے
جو پھنسا، پھر نہ کبھی اس نے رہائی مانگی
تیری زلفوں نے عجب جال بچھا رکھا ہے
یوں ہے قامت پہ تیرا چہرۂ زیبا جاناں
جیسے اک رحل نے قرآن اٹھا رکھا ہے
سو رہے ہیں رخِ روشن پہ وہ گیسو چھوڑے
چاند کو کالی گھٹاؤں نے چھپا رکھا ہے
آ بھی جاؤ میرے محبوب کہ اک مدت سے
فرش آنکھوں کا سرِ راہ بچھا رکھا ہے
تیری مخمور نگاہوں سے ہے رونق ساری
ورنہ ساقی تیرے مے خانے میں کیا رکھا ہے
حسن یا عشق ہو دونوں کا اثر یکساں ہے
چیز ہے ایک، مگر نام جدا رکھا ہے
وہ کہیں حضرتِ انساں ہی نہ ہو اے واعظ
آپ نے جس کو سرِ عرش بیٹھا رکھا ہے
میں ستم تیرے بتا سکتا ہوں دنیا کو مگر
تیری رسوائی نے مجبور بنا رکھا ہے
تجھ کو سینے سے لگاؤں میری قسمت میں کہاں
اپنے ارمانوں کو سینے سے لگا رکھا ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ کل حشر میں کیا کچھ ہو گا
مفت میں حضرتِ واعظ نے ڈرا رکھا ہے
تیرے کوچے کی گدائی کا وہ عالم توبہ
جو گدا ہے، اسے سلطان بنا رکھا ہے
میری نظروں میں کوئی کیسے جچے اے ساجد
نسبتِ یار نے مغرور بنا رکھا ہے

ساجد مہروی

No comments:

Post a Comment