نگاہیں چرا کر او جانے والے! مناسب نہیں یہ ستم چلتے چلتے
ذرا اپنی اٹھتی جوانی کا صدقہ، ادھر بھی نگاہ کرم چلتے چلتے
چلے آۓ تھے آج انکی گلی سے یہی سوچ کر پھر نہ جائیں گے، لیکن
جو پیچھے سے اس بیوفا نے پکارا، وہیں رک گئے بس قدم چلتے چلتے
رقیبوں سے ملنا ہمیں بھول جانا، کہاں کا یہ انصاف ہے او ستمگر
نہ طعنہ زنی کر میری مے کشی پہ، ذرا پوچھ اپنی نشیلی نظر سے
خطا گر نہیں تیری نظروں کی ظالم تو کیوں لڑکھڑائے قدم چلتے چلتے
لکھا خط کسی کو مخاطب کوئی تھا، مگر بارہا ایسا عالم بھی گزرا
خیال آ گیا جس گھڑی بھی تمہارا، وہیں رک گیا بس قلم چلتے چلتے
کیا تھا جو وعدہ نبھائیں گے ساجد، یہی تو ہے دستور اہل وفا کا
ہٹے ہیں نہ راہ وفا سے ہٹیں گے، اگرچہ نکل جائے دم چلتے چلتے
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment